19 جون 2012 - 19:30

مصر کے دارالحکومت قاہرہ ميں مشہور تحرير اسکوائر ايک بار پھر دسيوں لاکھ انقلابي عوام کے اجتماع اور مظاہروں کا مرکز بن گيا ہے.

ابنا: مصر کي سياسي جماعتوں، گروہوں اور تنظيموں کے افراد يہاں تک کہ اراکين پارليمنٹ تک لوگوں کے شانہ بہ شانہ تحرير اسکوائر پر اکٹھا ہوئے اور انہوں نے حکمراں فوجي کونسل کے خلاف نعرے لگائے- 

واضح رہے کہ حکمراں فوجي کونسل نے حاليہ دنوں ميں عوام کے منتخب اداروں کے خلاف کچھ فيصلے کيے ہيں اور ان کے اس اقدام کو انقلاب کے خلاف  بغاوت کا نام ديا جا رہا ہے-   ادھر اسکندريہ کے لوگوں نے بھي ديگر شہروں کے لوگوں کي مانند پارليمنٹ کي تحليل اور فوجيوں کے اختيارات ميں اضافے کے خلاف مظاہرے کيے- مصر کے شمالي علاقے اسکندريہ ميں ہزاروں لوگوں نے سياسي و انقلابي جماعتوں اور گروہوں کي اپيل پر فوجي کمان کے مرکز کے سامنے اکٹھا ہو کر مظاہرے کيے اور اس طرح حکمراں فوجي کونسل کے خلاف مصري عوام کے ملين مارچ ميں شرکت کي- مظاہرين نے کہا کہ فوجي کونسل کے اس اقدام کا مقصد ملک کے نئے صدر کے اختيارات کو کم کرنا ہے-

مظاہرين نے، جو آزادي و انصاف پارٹي، نور پارٹي، وسط پارٹي، جماعت اسلامي، چھے اپريل موومنٹ اور سوشلسٹ انقلابي پارٹي کے حاميوں ميں سے تھے، پارليمنٹ کي تحليل اور فوجيوں کو عدالتي استثني ديئے جانے کے فيصلے کي شديد مخالفت کي- مظاہرين نے اس قسم کے فيصلوں کو،  جوصدارتي انتخابات کے ابتدائي نتائج سامنے آنے کے بعد کيے گئے ہيں اور جن ميں محمد مرسي کو احمد شفيق پر برتري حاصل ہونے کا اعلان کيا گيا ہے، عوام کے منتخب صدر کے اختيارات کو کم کرنے کي حکمراں فوجي کونسل کي کوشش سے تعبير کيا ہے- مظاہرين ايسے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر حکمراں فوجي کونسل کے خلاف نعرے لکھے ہوئے تھے

         واضح رہے کہ مصر ميں پارليمنٹ کي تحليل اور صدر کے اختيارات کم کرنے کے فيصلے کے بعد اب فوجي کونسل نے قومي دفاع کي اعلي کونسل کي تشکيل کرکے، ملک کي سيکورٹي کي ذمہ داري اپنے ہاتھ ميں لے لي ہے- مسلح افواج کي اعلي کونسل نے کہا ہے کہ قومي دفاع کي کونسل ميں صدر اور وزير دفاع سميت سولہ اراکين ہوں گے جن ميں دس فوج کے اعلي افسران ہوں گے- اس کونسل کي ذمہ داري ملک ميں امن و امان قائم کرنا ہے- يہ تمام باتيں ظاہر کرتي ہيں کہ مسلح افواج کي اعلي کونسل، ملک کا پورا کنٹرول اپنے ہاتھ ميں رکھنے کے ليے کوشاں ہے-      يہاں قابل ذکر بات يہ ہے کہ آزادي و انصاف پارٹي کے اميدوار نے، جو غير سرکاري اطلاعات کے مطابق صدارتي انتخابات ميں کامياب ہو چکے ہيں، کہا ہے کہ اگر وہ صدر بنے تو قاہرہ کے تحرير اسکوائر پر مصري عوام کے سامنے اپنے عہدے کا حلف اٹھائيں گے-

يہ ايسے عالم ميں ہے کہ اعلي فوجي کونسل نے اعلان کيا ہے کہ صدر کو، آئيني عدالت اور فوجي کونسل کے اراکين کے سامنے حلف اٹھانا ہوگا جس کا واضح مطلب يہ ہے کہ صدر کو ملک کے فوجي حکمرانوں سے آئيني حيثيت حاصل کرني ہوگي تاہم محمد مرسي نے کہا ہے کہ وہ اپني عہدے کي آئيني حيثيت کو مصري عوام کے ذريعے حاصل کرنا چاہتے ہيں- اس بات نے مصر کے عوام ميں ہيجان پيدا کر دياہے اور سبھي کو اس بات کا انتظار ہے کہ ملک کي آئندہ صورتحال کيا ہوتي ہے-

عوام نے فوجي کونسل کي جانب سے کي جا رہي سازشوں کو محسوس کر ليا ہے اور واضح طور پر اعلان کيا ہے کہ وہ اپنے انقلاب کے خلاف سازش کرنے والوں کے مقابلے ميں ميدان سے نہيں ہٹيں گے-........

/169